اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
Mirza Ghalib (1797–1869)اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
پروانہ خانہ غم ہو تو پھر کس لۓ اسد
ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
پروانہ خانہ غم ہو تو پھر کس لۓ اسد
ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے