لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آۓ

Mirza Ghalib (1797–1869)

لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آۓ

جان جاۓ تو بلا سے، پہ کہیں دِل آۓ

ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری

دوست جو ساتھ مرے تا لبِ ساحل آۓ

وہ نہیں ہم، کہ چلے جائیں حرم کو، اے شیخ!

ساتھ حُجّاج کے اکثر کئی منزِل آۓ

آئیں جس بزم میں وہ، لوگ پکار اٹھتے ہیں

"لو وہ برہم زنِ ہنگامۂ محفل آۓ"

دیدہ خوں بار ہے مدّت سے، ولے آج ندیم

دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آۓ

سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے، نہ کریں

عکس تیرا ہی مگر، تیرے مقابِل آۓ

اب ہے دِلّی کی طرف کوچ ہمارا غالب!

آج ہم حضرتِ نوّاب سے بھی مِل آۓ