روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کی

Mirza Ghalib (1797–1869)

روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کی

اترائے کیوں نہ خاک سرِ رہگزار کی

جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ

لوگوں میں کیوں‌نمود نہ ہو لالہ زار کی

بُھوکے نہیں ہیں سیرِ گلستان کے ہم ولے

کیوں کر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی