کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں ، گر آجائے ہے ، مُجھ سے

Mirza Ghalib (1797–1869)

کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں ، گر آجائے ہے ، مُجھ سے

جفائیں کر کے اپنی یاد ، شرما جائے ہے ، مُجھ سے

خُدایا ! جذبۂ دل کی مگر تاثیر اُلٹی ہے !

کہ جتنا کھینچتا ہوں ، اور کِھنچتا جائے ہے مُجھ سے

وہ بَد خُو ، اور میری داستانِ عشق طُولانی

عبارت مُختصر ، قاصد بھی گھبرا جائے ہے ، مُجھ سے

اُدھر وہ بدگمانی ہے ، اِدھر یہ ناتوانی ہے

نہ پُوچھا جائے ہے اُس سے ، نہ بولا جائے ہے مجھ سے

سنبھلنے دے مجھے اے نا اُمیدی ! کیا قیامت ہے !

کہ دامانِ خیالِ یار ، چُھوٹا جائے ہے مُجھ سے

تکلف بر طرف ، نظارگی میں بھی سہی ، لیکن

وہ دیکھا جائے ، کب یہ ظُلم دیکھا جائے ہے ، مُجھ سے

ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبردِ عشق میں زخمی

نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے ، نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے

قیامت ہے کہ ہووے مُدعی کا ہمسفر غالب !

وہ کافر ، جو خُدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مُجھ سے