خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے

Mirza Ghalib (1797–1869)

خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے

غرورِ دوستی آفت ہے ، تُو دُشمن نہ ہو جائے

سمجھ اس فصل میں کوتاہئ نشوونما ، غالب!

اگر گُل سَرو کے قامت پہ ، پیراہن نہ ہو جائے