اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ

Mirza Ghalib (1797–1869)

اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ

ہے اصل خرد سے شرمسار اندیشہ

یک قطرۂ خون و دعوت صد نشتر

یک وہم و عبادت ہزار اندیشہ