جب تک کہ سبق ملاپ کا یاد رہا

Ismail Meeruthi (1844–1917)

جب تک کہ سبق ملاپ کا یاد رہا

بستی میں ہر ایک شخص دل شاد رہا

جب رشک و حسد نے پھوٹ ان میں ڈالی

دونوں میں سے ایک بھی نہ آباد رہا