آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر

Allama Iqbal (1877–1938)

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر

کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر

سینۂ افلاک سے اُٹھتی ہے آہِ سوز ناک

مردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سُلطان و امیر

کہہ رہا ہے داستاں بیدردیِ ایّام کی

کوہ کے دامن میں وہ غم خانۂ دہقانِ پیر

آہ! یہ قومِ نجیب و چرب دست و تر دماغ

ہے کہاں روزِ مکافات اے خُدائے دیر گیر؟