بہادر شاہ اور پھول والوں کی سیر

مرزا فرحت اللہ بیگ

نور الطاف و کرم کی ہے یہ سب اس کے جھلک

کہ وہ ظاہر ہے ملک اور ہے باطن میں ملک

اس تماشے کی نہ کیوں دھوم ہو افلاک تلک

آفتابی سے خجل جس کے ہے خورشید فلک

یہ بنا اس شہ اکبر کی بدولت پنکھا

شائق اس سیر کے سب آج ہیں با دیدہ دل

واقعی سیر ہے یہ دیکھنے ہی کے قابل

چشم انجم ہو نہ اس سیر پہ کیوں کر مائل

سیر یہ دیکھے ہے وہ بیگم والا منزل

جس کے دیواں کا رکھے ماہ سے نسبت پنکھا

رنگ کا جوش ہے ماہی سے زبس ماہ تلک

ڈوبے ہیں رنگ میں مدہوش سے آگاہ تلک

آج رنگین ہے رعیت سے لگا شاہ تلک

زعفران زار ہے اک بام سے درگاہ تلک

دیکھنے آئی ہے اس رنگ سے خلقت پنکھا

جھولا کن ڈارو، رے، امریاں

جھولا کن ڈارو، رے، امریاں

رین اندھیری، تال کنارے، مرلا جھنگارے

بادل کارے، بوندیا پڑیں، پھنیاں پھنیاں

جھولا کن ڈارو سے امریاں

دو سکھی جھولیں، دو ہی جھولائیں

چار مل گئیاں، بھول بھلیاں

جھولا کن ڈارو، رے امریاں

سنو سکھی سیاں جو گیا ہو گئے، سنو سکھی سیاں جو گیا ہو گئے

میں جو گن تیرے ساتھ، سنو سکھی سیاں جوگیا ہو گئے

جو گیا بجائے بین بانسری، جو گیا بجائے بین بانسری

جوگن گائے ہے ملار، سنو سکھی سیاں جو گیا ہو گئے

جو گیا نے چھائی، جنگل جھونپڑی، جوگیا نے چھائی جنگل جھونپڑی

جوگن نے چھایا ہے بدیس، سنو سکھی سیاں جو گیا ہو گئے

جو گیا نے پہنے لال لال کپڑے، جوگیا نے پہنے لال لال کپڑے

جو گن کے لمبے لمبے کیس، سنو سکھی سیاں جوگیا ہو گئے

اماں، آڑو جامن گھلے دہرے

اماں، میں نہیں کھاتی میری ماں

اماں، تتا پانی بھرا دھرا

اماں، میں نہیں نہاتی میری ماں

اماں، دھانی جوڑا سلا دھرا

اماں، میں نہیں پہنتی میری ماں

اماں، بھائی بھاوج ملن کھڑے

اماں، میں نہیں ملتی میری ماں