امرود اور ملا جی

Lateef Farooqi

کسی قصبے میں ایک تھا امرود

بیسوں میں وہ نیک تھا امرود

پڑھنے جاتا تھا وہ نماز وہاں

آدمی اک نظر نہ آئے جہاں

خوف اس کو ہمیشہ رہتا تھا

آدمی کوئی مجھ کو کھا لے گا

شوق بولا کہ ایک دن جاؤ

کسی مسجد میں جا نماز پڑھو

چھوٹی سی مسجد اک قریب ہی تھی

تھے وہاں ڈٹ کے بیٹھے ملا جی

چپکے چپکے خدا کی لے کر آس

چل کے جا بیٹھا جوتیوں کے پاس

جوں ہی سجدے میں اس نے رکھا سر

آئے ملا جی اس طرف اٹھ کر

ایسے ملا ندیدے ہوتے ہیں

دیکھ کے کھانے ہوش کھوتے ہیں

حلوہ کھاتے ہیں نان کھاتے ہیں

جب ملے کچھ نہ جان کھاتے ہیں

جھپٹے اس پر پکڑ لیا امرود

چیخا چلایا رو پڑا امرود

کہا امرود نے کہ ملا جی

ہو اگر آج میری جاں بخشی

پھل کھلاؤں گا آپ کو ایسا

اچھا مجھ سے ہے ذائقہ جس کا

پھر کہا یہ کہ میرے ساتھ آئیں

جس جگہ میں کہوں ٹھہر جائیں

اک دکاں کے قریب آ کے کہا

آئیے دیکھیے ہے کیسا مزا

کیلا جلدی سے اک اٹھا لیجے

اور مسجد میں چل کے کھا لیجئے

مالک اس کا وہاں نہ تھا موجود

ملا موجود تھا خدا موجود

کیلا مسجد کے پاس لے کے چلے

چلتے چلتے وہ آخر آ پہنچے

کہا امرود نے نکالیے آپ

چھیل کر کیلا اس کو کھائیے آپ

لگے مسجد میں جانے جب کھا کر

آ گیا ان کا پاؤں چھلکے پر

وائے قسمت کہ آپ ایسے گرے

ایک گھنٹے سے پہلے اٹھ نہ سکے

موقع پاتے ہی چل دیا امرود

دے کے ملا کو جل گیا امرود

حرص کا خوب ہی مزا پایا

دودھ ان کو چھٹی کا یاد آیا