یار کو بے حجاب دیکھا ہوں

Siraj Aurangabadi (1712–1764)

یار کو بے حجاب دیکھا ہوں

میں سمجھتا ہوں خواب دیکھا ہوں

یہ عجب ہے کہ دن کوں تاریکی

رات کوں آفتاب دیکھا ہوں

مصرع انتخاب دیکھا ہوں

کس ستی اب امید لطف رکھوں

تجھ نگہ سیں عتاب دیکھا ہوں

اب ہوا سب سیں فارغ التحصیل

بے خودی کی کتاب دیکھا ہوں

لشکر عشق جب سیں آیا ہے

ملک دل کوں خراب دیکھا ہوں

مجلس چشم مست ساقی میں

دور جام شراب دیکھا ہوں

اے سراجؔ آتش محبت میں

دل کوں اپنے کباب دیکھا ہوں