نغمۂ دل سوز

Raj Bahadur Saxena Auj

ہے مزاج اس وقت کچھ بگڑا ہوا صیاد کا

اے اسیران قفس موقع نہیں فریاد کا

کتنا درد آمیز تھا نغمہ دل ناشاد کا

تیر ترکش میں تڑپ اٹھا ستم ایجاد کا

داستان‌ عالم فرقت کسی سے کیا کہیں

ہو گیا برباد ہر ذرہ دل ناشاد کا

آپ کو ملنا نہیں منظور لو مرتا ہوں میں

منتظر بیٹھا ہوا تھا آپ کے ارشاد کا

اے دل ناشاد مجھ کو تیری وحشت دیکھ کر

یاد آ جاتا ہے قصہ قیس اور فرہاد کا

آئے وہ بہر عیادت ڈال کر رخ پر نقاب

رہ گیا ارمان دل میں عاشق ناشاد کا

آپ فرماتے ہیں تو نے رات کو نالے کئے

بندہ پرور اوجؔ تو عادی نہیں فریاد کا