منہ پھول سے رنگیں تھا و ساری تھی اس ہری

Faez Dehlvi (1690–1738)

منہ پھول سے رنگیں تھا و ساری تھی اس ہری

کھترانی ایک دیکھی میں پنگھٹ پہ جوں پری

چیری ہیں اس کی اربسی رمبھا و رادھکا

پربھو نے پھر بنائی نہیں ویسی دوسری

میں نے کہا کہ گھر چلے گی میرے ساتھ آج

کہنے لگی کہ ہم سوں نہ کر بات تو بری