مسیحا آ کے بالیں پر جو رو جائے تو رو جائے
صغرا ہمایوں مرزامسیحا آ کے بالیں پر جو رو جائے تو رو جائے
نصیبہ جاگ کر اپنا جو سو جائے تو سو جائے
مجھے پروا نہ اچھے کی برائی کا نہ خطرہ ہے
مرا دل تیرے ہاتھوں سے جو کھو جائے تو کھو جائے
نہ جینے کی خوشی مجھ کو نہ مرنے کا الم کچھ ہے
جو ہونا ہے مقدر میں وہ ہو جائے تو ہو جائے
رقیب رو سیہ سے ہے عبث امید نیکی کی
کوئی کانٹا مرے حق میں جو بو جائے تو بو جائے
نہ کی کچھ قدر جیتے جی وہ پچھتاتا ہے مرنے پر
مری تربت پہ اب آ کر جو رو جائے تو رو جائے
مرے اشک ندامت سے حیاؔ مجھ کو یقیں ہے یہ
گنہ جو کچھ ہوا مجھ سے وہ دھو جائے تو دھو جائے