مزے لوں درد کے میں تھوڑے تھوڑے ظلم سہ سہ کر

Dagh Dehlvi (1831–1905)

مزے لوں درد کے میں تھوڑے تھوڑے ظلم سہ سہ کر

ستم کیجے تو تھم تھم کر جفا کیجے تو رہ رہ کر

ملے تھے آج مدت میں بہت روئے بہت تڑپے

وہ درد عشق سن سن کر ہم اپنا درد کہہ کہہ کر

ہوئی ہے شمع محفل تو شریک گریۂ عاشق

تجھے اے قلقل مینا کہا تھا کس نے قہہ قہہ کر

چھپایا زلف نے چہرہ تو شوخی نے کیا ظاہر

ہزاروں بار نکلا وصل کی شب چاند گہہ گہہ کر

تڑپنے میں مزہ آتا ہے اس کم بخت کے ہم کو

اگر دل یاس سے بیٹھا ابھارا ہم نے کہہ کہہ کر

یہ جانا تھا نہ آئیں گے تو کیوں جانے دیا ان کو

یہی اے داغؔ پچھتاوا مجھے آتا ہے رہ رہ کر