سفید جھوٹ
سعادت حسن منٹوہاتھا پائی سے ہانپتے جانا
کھلتے جانے میں ڈھانپتے جانا
وہ ترا منہ سے منہ بھڑا دینا
وہ ترا جیب کا لڑا دینا
وہ ترا پیار سے لپٹ جانا
اور دل کھول کے چمٹ جانا
ہولے ہولے پکارنے لگنا
ڈھیلے ہاتھوں سے مارنے لگنا
منہ سے کچھ کچھ پڑے بکے جانا
چھوٹ جانے کے گوں تکے جانا
تھک کے کہنا خدا کے واسطے چھوڑ
نیند آئی ہے اب مجھے نہ جھنجوڑ
وہ ترا ڈھیلے چھوڑنا بے بس
وہ ترا سست ہو کے کہنا بس
بات باقی نہیں رہی اب تو
رات باقی نہیں رہی اب تو
کہیں تیری یہ بات نبڑے گی
یا یونہی ساری رات نبڑے گی
مجھ میں باقی کچھ اب تو بات نہیں
صبح بھی ہو چکی ہے رات نہیں
دیکھ اب آگے مار بیٹھوں گی
یا کسو کو پکار بیٹھوں گی
آدمی کی جو ریخ نکلے گی
منہ سے کیونکر نہ چیخ نکلے گی
کبھو پھر بھی تو کام ہو وے گا
دیکھیو کون ساتھ سووے گا
لب سے لب مرے ملائے رکھنا
بازو سے وہ سر اٹھائے رکھنا
وہ سینے پہ لیٹ کے ستانا
مطلب کہ سخن پہ روٹھ جانا
وہ منہ میں زبان کی لذتیں ہائے
ظاہر حرکت سے رغبتیں ہائے
اپنا جو ہوا کچھ اور ارادہ
جی چاہا کہ اس سے بھی زیادہ
وہ ہاتھ کو رکھ کے جوش انکار
وا کرنے نہ دینا بندِ شلوار
وہ ہاتھ کو دم بدم جھٹکنا
وہ تکئے پر سر کو دے پٹکنا
آہستہ لگانی آہ لاتیں
حیلہ کی وہ کیسی کیسی باتیں
وہ ہا تھ کو زور سے چھڑانا
وہ ہو کے تنگ کاٹ کھانا
وہ نیچے پڑے ہی تلملانا
قابو سے تڑپ کے نکلے جانا
وہ چیں بجبیں ہو کے کہنا
کن بے کسوں سے رو کے کہنا
بس تم کو یہی شغل دن رات
اچھی نہیں لگتی مجھ کو یہ بات
بھرتا ہی نہیں ہے تیرا جی بس
کرتا ہی نہیں ہے تو کبھی بس