سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں؟

Mirza Ghalib (1797–1869)

سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں؟

آرام کے اسباب کہاں سے لاؤں؟

روزہ مِرا اِیمان ہے غالبؔ! لیکن

خَسخانہ و برفاب کہاں سے لاؤں؟