رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا

Bahadur Shah Zafar (1775–1862)

رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا

پھر کے برج سنبلہ میں آفتاب آ جائے گا

تیرا احساں ہوگا قاصد گر شتاب آ جائے گا

صبر مجھ کو دیکھ کر خط کا جواب آ جائے گا

ہو نہ بیتاب اتنا گر اس کا عتاب آ جائے گا

تو غضب میں اے دل خانہ خراب آ جائے گا

اس قدر رونا نہیں بہتر بس اب اشکوں کو روک

ورنہ طوفاں دیکھ اے چشم پر آب آ جائے گا

پیش ہووے گا اگر تیرے گناہوں کا حساب

تنگ ظالم عرصۂ روز حساب آ جائے گا

دیکھ کر دست ستم میں تیری تیغ آب دار

میرے ہر زخم جگر کے منہ میں آب آ جائے گا

اپنی چشم مست کی گردش نہ اے ساقی دکھا

دیکھ چکر میں ابھی جام شراب آ جائے گا

خوب ہوگا ہاں جو سینہ سے نکل جائے گا تو

چین مجھ کو اے دل پر اضطراب آ جائے گا

اے ظفرؔ اٹھ جائے گا جب پردہ شرم و حجاب

سامنے وہ یار میرے بے حجاب آ جائے گا