دیا جو ساقی نے ساغر مے دکھا کے آن اک ہمیں لبالب

Nazeer Akbarabadi (1735–1830)

دیا جو ساقی نے ساغر مے دکھا کے آن اک ہمیں لبالب

اگرچہ مے کش تو ہم نئے تھے پہ لب پہ رکھتے ہی پی گئے سب

چلتے ہیں دینے کو ہم جسے دل وہ ہنس کے لے لے بس اب ہمیں تو

یہی ہے خواہش یہی تمنا یہی ہے مقصد یہی ہے مطلب

کبھی جو آتے ہیں دیکھنے ہم تو آپ تیوری کو ہیں چڑھاتے

جو ہر دم آویں تو کیجے خفگی میاں ہم آتے ہیں ایسے کب کب

لگا لبوں سے وہ جام پھر تو کہاں کا دین اور کہاں کا مذہب