خواب طفلی اور آرزوئے شباب

مہدی افادی

سیرت صورت پرستاں اور ہے

مذہب الفت پرستاں اور ہے

درد ہے جس میں وہ صہبا اور ہے

بادۂ ناب مصفّا اور ہے

جس کے ہم جو یا ہیں وہ شے اور ہے

چور ہم جس سے ہیں وہ مے اور ہے

مے ہے اپنی اور پیمانہ ہے اور

عشق کے مستوں کا میخانہ ہے اور

جب سے دیکھا اس کا جلوہ آنکھ سے

غیر عذرا کچھ نہ دیکھا آنکھ سے

سامنا ہے آفتابِ عشق سے

مست و بیخود ہوں شراب عشق سے

راقم

ہم ہنسی کھیل سمجھتے تھے لگانا دل کا

اب یہ جانا کہ اِسے کہتے ہیں آنا دل کا