حق ہے تو کہاں ہے پھر مجال باطل

Ismail Meeruthi (1844–1917)

حق ہے تو کہاں ہے پھر مجال باطل

حق ہے تو عبث ہے احتمال باطل

ناحق نہیں کوئی چیز راہ حق میں

باطل کا خیال ہے خیال باطل