جلال و جمال

Allama Iqbal (1877–1938)

مرے لیے ہے فقط زورِ حیدری کافی

ترے نصیب فلاطُوں کی تیزیِ ادراک

مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائی

کہ سر بسجدہ ہیں قُوّت کے سامنے افلاک

نہ ہو جلال تو حُسن و جمال بے تاثیر

نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک

مجھے سزا کے لیے بھی نہیں قبول وہ آگ

کہ جس کا شُعلہ نہ ہو تُند و سرکش و بے باک!