یہ قطرۂ شبنم نہیں اے سوز جگر آج
Raj Bahadur Saxena Aujیہ قطرۂ شبنم نہیں اے سوز جگر آج
ڈوبی ہوئی آئے ہے پسینوں میں سحر آج
بے وجہ نہیں فطرت شوخی کا گزر آج
تم آنکھ ملا کر جو چراتے ہو نظر آج
وہ آئے عیادت کو تو آئی ہے قضا بھی
مہماں ہوئے اک وقت میں دو دو مرے گھر آج
ارمان نکلنے دیے کس سوختہ دل کا
ہے وصل کی شب بول نہ اے مرغ سحر آج
وہ کعبۂ دل توڑتے ہیں سنگ جفا سے
برباد ہوا جاتا ہے اللہ کا گھر آج
ہر اشک کے دامن میں ہے اک منظر طوفاں
کیا ڈوب ہی جائے گی یہ کشتئ نظر آج
ڈوبی ہوئی نبضیں یہ پتہ دیتی ہیں مجھ کو
اے اوجؔ نہ ہوگی شب فرقت کی سحر آج