ہندو اور مسلمان

Ufuq Lakhnavi

فخر وطن ہیں دونوں اور دونوں مقتدر ہیں

ہیں پھول اک چمن کے اک نخل کے ثمر ہیں

اے قوم تیرے دکھ کے دونوں ہی چارہ گر ہیں

دونوں جگر جگر ہیں لیکن دگر دگر ہیں

آپس کے تفرقوں سے ہیں آہ خار دونوں

اغیار کی نظر میں ہیں بے وقار دونوں

مل کر چلو کہ آخر دونوں ہو بھائی بھائی

بھائی سے کیا لڑائی بھائی سے کیا برائی

کب تک یہ خانہ جنگی کب تک یہ خودستائی

دو بھائیوں کو ہرگز زیبا نہیں جدائی

مل کر گلے نکالو دل کا غبار دونوں

اس خاک کے ہو پتلے پایان کار دونوں

رشک جناں بناؤ ہندوستاں کو مل کر

خون جگر سے سینچو اس گلستاں کو مل کر

لہراؤ آسماں پر قومی نشاں کو مل کر

دو آب جاں نثاری نوک سناں کو مل کر