جب بھی جذبات کا طوفان آئے

Vijay Arun

جب بھی جذبات کا طوفان آئے

میرے الفاظ بہا کر لے جائے

دل کی دھڑکن پہ وہی خوب رہے

بند ہونٹوں نے جو نغمے گائے

کیا عجب ہے کہ خوشی ہو کہ ہو غم

آنکھ کا جام چھلک ہی جائے

دوپہر میں مرا سورج ڈوبا

ایسے مایوسی کے بادل چھائے

شعر کہتا ہے تو چھپوایا بھی کر

پر ارونؔ کون تجھے سمجھائے