عشق نے برباد کر دی زندگی ہائے رے عشق
Vijay Arunعشق نے برباد کر دی زندگی ہائے رے عشق
کم ہوئی پھر بھی نہ اس کی دل کشی ہائے رے عشق
تیرتا غم کے سمندر میں ہو جیسے کوئی شخص
اور مٹھی میں ہو اس کی ہر خوشی ہائے رے عشق
ایک دل عاشق کا ہے اور طنز کے سو تیر ہیں
پھر بھی ہونٹوں پر ہے اس کی اک ہنسی ہائے رے عشق
دھوپ خوشیوں کی ہے بے شک ہر طرف پھیلی ہوئی
آنکھ عاشق کی ہے پھر بھی شبنمی ہائے رے عشق
ہاں مجھے بھی تم سے الفت ہے یہ سننے کے لئے
اے ارونؔ اک عمر میں نے کاٹ دی ہائے رے عشق