کرم نہیں تو ستم ہی سہی روا رکھنا
Yaseen Qudratکرم نہیں تو ستم ہی سہی روا رکھنا
تعلقات وہ جیسے بھی ہوں سدا رکھنا
کچھ اس طرح کی ہدایت ملی ہے اب کے مجھے
کہ سر پہ قہر بھی ٹوٹیں تو دل بڑا رکھنا
نہ آنسوؤں کی رواں نہر آنکھ سے کرنا
اب اس کی یاد بھی آئے تو حوصلہ رکھنا
کسے ملا ہے ملے گا کسے مراد کا پھل
سو غائبانہ نوازش کی آس کیا رکھنا
عجب نہیں کہ ورود حبیب ہو جائے
زمانہ تنگ نظر ہے تو دل کھلا رکھنا
جو دوستی کے لئے بے قرار رہتا ہے
وہ کوئی چال نہ چل جائے پھر پتا رکھنا
ستارہ عرش سے ٹوٹے گا ایک فرش کی سمت
تم اپنا گھر در و دیوار تک سجا رکھنا
وفا شعار بھی قدرت تھا روٹھنے والا
روایتاً بھی نہ نام اس کا بے وفا رکھنا