اس بت سے جو ملنے کی تدبیر نظر آئی
Raees Narviاس بت سے جو ملنے کی تدبیر نظر آئی
بنتی ہوئی کچھ اپنی تقدیر نظر آئی
چھپ چھپ کے زمانے سے کیوں اشک روانی ہے
شاید کہ محبت میں تاثیر نظر آئی
جینے کا مزہ کیا ہے جب موت ہی روٹھی ہو
جس سمت قدم اٹھے زنجیر نظر آئی
جب عالم وحشت میں اپنے کو بھلا بیٹھا
انجام محبت کی تقصیر نظر آئی
پیمانہ و مینا کی صورت میں رئیسؔ آخر
ٹوٹی ہوئی توبہ کی تصویر نظر آئی