ہر اک منزل قیام رہ گزر معلوم ہوتی ہے
Qamar Badarpuriہر اک منزل قیام رہ گزر معلوم ہوتی ہے
ہمیں تو زندگی پیہم سفر معلوم ہوتی ہے
وہی تنہائی کا عالم وہی بے رونقی ہر سو
بیاباں تیری خاموشی بھی گھر معلوم ہوتی ہے
ہمارے حاسدوں کی چال آخر رنگ لے آئی
بہت بدلی ہوئی ان کی نظر معلوم ہوتی ہے
مسیحا بھول جا تیری دوا کچھ کام آئے گی
کہ ہر تدبیر اب تو بے اثر معلوم ہوتی ہے
اگر دو وقت کی روٹی ہی مل جائے غنیمت ہے
میاں فاقے میں گٹھلی بھی ثمر معلوم ہوتی ہے
اندھیری رات میں اے جان جاں بھٹکے مسافر کو
دئے کی لو بھی جیسے اک قمر معلوم ہوتی ہے