ان کو میرے ضبط غم سے بھی گلہ رہ جائے گا

Parveen Mirza

ان کو میرے ضبط غم سے بھی گلہ رہ جائے گا

مشکلیں جب ختم ہوں گی حوصلہ رہ جائے گا

رفتہ رفتہ دل بھی ٹھہرا آنکھ سے آنسو رکے

ہم یہ سمجھے تھے کہ یہ غم جان لے کر جائے گا

ایک اک کر کے زمیں سے سب گلے مل جائیں گے

جانے پہچانوں سے رشتہ یاد کا رہ جائے گا

منزلوں کی خواہشیں جب توڑ دیں گی دل میں دم

جانے والوں کے لئے بس راستہ رہ جائے گا

آپ کی آنکھوں میں اترا ہے تو اجلا ہو گیا

کیا خبر تھی عکس میرا آئنہ ہو جائے گا

نسبتیں ہم سے زمیں کی چھن گئیں پرویںؔ تو کیا

آسمانوں سے ہمارا رابطہ رہ جائے گا