دوستی نہ کی ہوگی کھیل ہی کیا ہوگا
Parveen Mirzaدوستی نہ کی ہوگی کھیل ہی کیا ہوگا
آپ نے ہمیں سوچا غیر خوش ہوا ہوگا
میری روح میں کتنے زخم کھل گئے دیکھو
کوئی دل کے آنگن میں درد بو گیا ہوگا
جو بھی اس سے ملتا ہے خواب بننے لگتا ہے
کون جانے کس کس سے اس نے کیا کہا ہوگا
راستے میں پل بھر ہی وہ ہمیں ملے بس پھر
شہر میں کہانی کا سلسلہ چلا ہوگا
زندگی سجا لے پھر آئنے میں دیکھوں گی
مجھ پہ درد کا زیور کیسا لگ رہا ہوگا
خواب آسمانوں کے دیکھنے لگیں پرویںؔ
ایسے ہی ستارے پر نام رکھ دیا ہوگا