شہر کی رت بدلنے والی ہے

Jai Shree Thakur Shafaq

شہر کی رت بدلنے والی ہے

کوئی صورت نکلنے والی ہے

آس کا آفتاب چمکا ہے

یہ سیہ رات ڈھلنے والی ہے

اب مرادوں کو پوری کر بھی دے

اب تمنا مچلنے والی ہے

فرقت شب ہے اور ہم ہیں بس

درد کی شمع جلنے والی ہے

یہ صدائے جرس ہے صبح کی دوست

جو اندھیرا نگلنے والی ہے

عشق میں ساتھ مل گیا ہے اب

ہر بلا سر سے ٹلنے والی ہے

رنگ سورج کا لے کے بادل سے

اب شفقؔ بھی نکلنے والی ہے