ہم لوگ نہ نکلے تو سفر کون کرے گا
Pakiza Begہم لوگ نہ نکلے تو سفر کون کرے گا
دنیا کو حقیقت کی خبر کون کرے گا
پھر کوہ کنی کا ہے تقاضا کوئی آئے
اک کام ہے کرنے کا مگر کون کرے گا
ہم نے تو چراغوں کی طرح فرض نبھایا
اب رات کی کالک کو سحر کون کرے گا
الفاظ کی بوچھاڑ ہے اور گوش سماعت
کیا جانیے پتھر پہ اثر کون کرے گا
بے رحمیٔ حالات ہے ہتھیار سنبھالو
بھاگو گے تو سینوں کو سپر کون کرے گا
پھر کون لٹا دے گا دل و جان سر بزم
پھر زلف گرہ گیر کو سر کون کرے گا