ہم لوگ نہ نکلے تو سفر کون کرے گا

Pakiza Beg

ہم لوگ نہ نکلے تو سفر کون کرے گا

دنیا کو حقیقت کی خبر کون کرے گا

پھر کوہ کنی کا ہے تقاضا کوئی آئے

اک کام ہے کرنے کا مگر کون کرے گا

ہم نے تو چراغوں کی طرح فرض نبھایا

اب رات کی کالک کو سحر کون کرے گا

الفاظ کی بوچھاڑ ہے اور گوش سماعت

کیا جانیے پتھر پہ اثر کون کرے گا

بے رحمیٔ حالات ہے ہتھیار سنبھالو

بھاگو گے تو سینوں کو سپر کون کرے گا

پھر کون لٹا دے گا دل و جان سر بزم

پھر زلف گرہ گیر کو سر کون کرے گا