جو دیکھے چشم سیہ مست خواب کی صورت
Maftun Aurangabadiجو دیکھے چشم سیہ مست خواب کی صورت
نہ دیکھی پھر کبھی جام شراب کی صورت
فجر اٹھا سو ہی آنکھیں ہیں آسماں کی طرف
کہ کب نظر پڑے اس آفتاب کی صورت
وہ جور ناز وہ چین جبیں وہ چور نگاہ
پھرے ہے نظروں میں خانہ خراب کی صورت
نہ ہو کہ تجھ سے رکھیں ہم امید راست رویے
فلک تو آپ ہی ہے انقلاب کی صورت
قدم زمیں پہ دوشالے کا چنٹ لپٹی چال
کبھی تو دید بدید او نقاب کی صورت
عجب نہیں ہے اگر وہاں سے نامہ بر نہ پھرے
اور آگے ایسی ہے کچھ بے جواب کی صورت