جام مئے کی ہے جہاں چاہ وہاں ہے شیشہ

Maftun Aurangabadi

جام مئے کی ہے جہاں چاہ وہاں ہے شیشہ

کس کا دل خواہ نہیں جان جہاں ہے شیشہ

آتش و خوں شدہ وہ گریہ کناں ہے شیشہ

خود بشکل دل وہ منزل گہہ جاں ہے شیشہ

اس کے دل میں ہے کہ دے اس دل نازک کو شکست

دیکھئے کیا ہو وہاں سنگ یہاں ہے شیشہ

جوش تمکین یہ کس کا ہے کہ مئے خانے میں

جام ہی مغبچہ و پیر مغاں ہے شیشہ

منہ لگا اوس کے تئیں کون ہو رسوا مفتوںؔ

مثل نے صورت فریاد و فغاں ہے شیشہ