باہر رہ یا گھر میں رہ

Madhu Gupta

باہر رہ یا گھر میں رہ

میرے دل بنجر میں رہ

صحرا جنگل میں مت جا

نیند مرے بستر میں رہ

منزل منزل دھوکا ہے

میرے پاؤں سفر میں رہ

باہر جتنا گھوم کے آ

کچھ اپنے اندر میں رہ

حد سے باہر پاؤں نہ دے

اپنی ہی چادر میں رہ

اپنا جینا مرنا کیا

قاتل میرے خبر میں رہ

جیسے دن جو موسم ہو

تو ہر وقت نظر میں رہ