اپنی صورت پہ بھی نظر رکھئے
Madhu Guptaاپنی صورت پہ بھی نظر رکھئے
آئنہ ہاتھ میں اگر رکھئے
آپ پر جاں نثار کر دیں سب
بات بس ایسی پر اثر رکھئے
اک نا اک دن یہ کام آئے گا
ہاتھ میں اپنے کچھ ہنر رکھئے
پیار کوئی ہنسی یا کھیل نہیں
آپ پتھر سا پھر جگر رکھئے
چھاؤں ان کی بڑی ہی شیتل ہے
گھر میں بوڑھا بھی اک شجر رکھئے