پھر اپنے آپ سے اس کو حجاب آتا ہے

Nadir Siddiqui

پھر اپنے آپ سے اس کو حجاب آتا ہے

تھرکتی جھیل پہ جب ماہتاب آتا ہے

دکھائیے نہ ہمیں آپ موسمی آنسو

کہ یہ ہنر تو ہمیں بے حساب آتا ہے

وہ جس طریق سے اس نے سوال داغا ہے

اسی طرح کا مجھے بھی جواب آتا ہے

تو بارشوں سے شکایت سی ہونے لگتی ہے

گلاب سا جو کوئی زیر آب آتا ہے

میں اپنی آنکھ میں شبنم اتار لیتا ہوں

وہ اپنی آنکھ میں جب لے کے خواب آتا ہے

ابھی تو نام بھی اپنا نہیں ملا مجھ کو

ابھی تو نام سے پہلے جناب آتا ہے