ہر کوئی شہر میں پابند انا لگتا ہے
Nadir Siddiquiہر کوئی شہر میں پابند انا لگتا ہے
کیا تماشا ہے کہ ہر شخص خدا لگتا ہے
میں نے ہجرت کے بیاباں میں ریاضت کی ہے
اب یہ جنگل مجھے فردوس نما لگتا ہے
دیدۂ شوخ میں دیکھا ہے اتر کر میں نے
حسن پندار ہے پردے میں بھلا لگتا ہے
جب ترے غم سے نکلنے کی نہ صورت نکلے
تیرا وحشی کسی دیوار سے جا لگتا ہے
اس کو سرکار کے بوسے کا شرف حاصل ہے
ورنہ کالا سا یہ پتھر مرا کیا لگتا ہے
اب بھی جاتا ہوں کٹے پیڑ کا سایہ لینے
مدتوں سے جو بھلا تھا سو بھلا لگتا ہے