سچ تو یہ ہے کہ اسے دھوپ نے گرمایا تھا

Naeem Akhtar

سچ تو یہ ہے کہ اسے دھوپ نے گرمایا تھا

ہاں وہ پودا جو تری چھاؤں میں کمھلایا تھا

رات کس نے مری تنہائی کو مہکایا تھا

بوئے گل آئی تھی یا تیرا خیال آیا تھا

دیکھنے والے وہ منظر نہیں بھولے اب تک

میں کبھی آپ کی آنکھوں میں نظر آیا تھا

کتنے قصوں کو دیا جنم ترے اشکوں نے

میں بہت خوش تھا کہ دامن مرا کام آیا تھا

کچھ خیال آیا سرابوں میں بھٹکنے والے

کس کی آواز نے دریا پہ تجھے لایا تھا

اب تو بہتر ہے یہی کچھ بھی نہ یاد آئے نعیمؔ

موسم گل میں کسے کھویا تھا کیا پایا تھا