نشاط آرزو کا اور کیا انجام لکھوں گا

Naeem Akhtar

نشاط آرزو کا اور کیا انجام لکھوں گا

اسے بھی اک نہ اک دن حسرت ناکام لکھوں گا

مری روداد دل کی ابتدا تم انتہا بھی تم

تمہارا تذکرہ کیسے برائے نام لکھوں گا

قلم کی روشنائی جانے کیا الزام دے مجھ کو

میں اپنی صبح کے اوراق پر جب شام لکھوں گا

کتاب عشق جب بھی زندگی لکھوائے گی مجھ سے

وفا کے باب میں پہلے تمہارا نام لکھوں گا

تری فرقت میں کھویا میں تری قربت میں کیا پایا

نہ یہ تکلیف لکھوں گا نہ وہ آرام لکھوں گا

مری صبحیں خفا ہوں یا ہوں برگشتہ مری شامیں

دیا ہے دوپہر نے جو مجھے انعام لکھوں گا

سر مژگاں جو اختر بن کے چمکے تھے نعیم اخترؔ

میں اپنی زندگی ان آنسوؤں کے نام لکھوں گا