ہاتھوں کو بنا دیتی ہے جب برگ حنا سرخ

Kaleem Yazdani

ہاتھوں کو بنا دیتی ہے جب برگ حنا سرخ

کر دیتی ہے رخسار کو پھر شرم و حیا سرخ

تاریکیاں زائل ہوں تو ہو جائے سویرا

پھیلے جو شفق چار سو ہو جائے فضا سرخ

شاید کہ برسنے کو ہے پھر آگ فلک سے

کیوں آج نظر آنے لگی ہے یہ گھٹا سرخ

ہم ہوں گے شہیدان وفا کیوں نہ جہاں میں

ملبوس ہمارے لیے ہے جب کہ بنا سرخ

پھر آج سلگتا ہے مکاں شہر میں کوئی

وہ دور افق پر جو نظر آئی ضیا سرخ