شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں
Lubna Safdarشعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں
من پگھلتا ہوا سرد سی شام میں
وحشتوں نے رگ جاں کو کاٹا ہے خوب
دکھ مسلتا ہوا سرد سی شام میں
آسمانوں پہ رنگوں کے میلے بھی تھے
دن تھا ڈھلتا ہوا سرد سی شام میں
کون تھا دشت میں سنگ میرے کہو
ساتھ چلتا ہوا سرد سی شام میں
بے خودی کو کہوں کیا میں اپنا بدن
دیکھوں ڈھلتا ہوا سرد سی شام میں