کچھ کہتے ضرور ان سے گویائی نہیں باقی
Lubna Safdarکچھ کہتے ضرور ان سے گویائی نہیں باقی
صورت تو حسیں ہوگی بینائی نہیں باقی
دکھ درد کی ساتھی تھی ملنا ہے محال اس کا
اک حشر سا برپا ہے تنہائی نہیں باقی
اب دل میں ہے کیا میرے اس بات کو تم چھوڑو
اس راہ محبت میں پسپائی نہیں باقی
حالات کی شدت نے جھلسائے بدن ایسے
چہرے کی ضیا رخصت زیبائی نہیں باقی
کچھ رنگ خزاں نے بھی گل ایسے کھلائے ہیں
لہجوں میں کہیں بھی تو رعنائی نہیں باقی