دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب

Lubna Safdar

دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب

عشق اپنا مزاج ہے صاحب

دشت کی ریت ہے بہت پیاسی

آبلوں کا خراج ہے صاحب

پاس حرمت نہیں ہے لفظوں کی

کیسا وحشی سماج ہے صاحب

آپ کو بھول ہی نہیں پاتی

میرا کوئی علاج ہے صاحب

سانس بھی ٹھیک سے نہیں آتا

نفرتوں کا رواج ہے صاحب

کچھ بھی بدلا نہیں ہے دنیا میں

جو بھی کل تھا وہ آج ہے صاحب

میرا حصہ نہیں مقدر میں

یہ مرا احتجاج ہے صاحب