نیا لبادہ پرانی نشانیاں نہ گئیں
Jahangeer Imranنیا لبادہ پرانی نشانیاں نہ گئیں
فقیہ شہر کی ریشہ دوانیاں نہ گئیں
سروں پہ تاج نہ ان کے غلام گردش میں
مگر دماغ سے کیوں راجدھانیاں نہ گئیں
بہت کشید کیا پانیوں کو سورج نے
سمندروں کی مگر بے کرانیاں نہ گئیں
فریب کھانے کے با وصف بھی کسی لمحے
دل تباہ تری خوش گمانیاں نہ گئیں
تمہاری اور سے کیا مطمئن نہیں تھے ہم
تمہاری اور سے کیوں بدگمانیاں نہ گئیں