کیا کیا ہیں گلے اس کو بتا کیوں نہیں دیتا

Ibn-e-Raza

کیا کیا ہیں گلے اس کو بتا کیوں نہیں دیتا

تعزیر خطا مجھ کو سنا کیوں نہیں دیتا

ہیں ناوک دل دوز مرے یار کے تیور

اک بار وہ سب تیر چلا کیوں نہیں دیتا

یک طرفہ محبت کے تذبذب سے تو نکلوں

اس راز سے پردہ وہ ہٹا کیوں نہیں دیتا

لکھتا بھی ہے مجھ کو سر قرطاس محبت

مذموم جو لگتا ہوں مٹا کیوں نہیں دیتا

اتنا ہی فسردہ ہے اگر حال پہ میرے

جلوہ کبھی اپنا وہ دکھا کیوں نہیں دیتا

سر گرم سفر ہوں میں ترے دشت میں کب سے

مجھ کو مری منزل کا پتا کیوں نہیں دیتا

خوابیدہ نصیبی بھی تو تیری ہی عطا ہے

سوئی مری تقدیر جگا کیوں نہیں دیتا

جو تاب تماشا ہی نہیں اس میں رضاؔ تو

وہ آتش فرقت کو بجھا کیوں نہیں دیتا