میں نے تو کبھی اس کو مسلسل نہیں دیکھا

Habib Rehman (b. 1994)

میں نے تو کبھی اس کو مسلسل نہیں دیکھا

چہرہ بھی کبھی اس کا مکمل نہیں دیکھا

آنکھوں کے نشہ سے مجھے فرصت ہی نہیں تھی

بس اس لئے میں نے کبھی کاجل نہیں دیکھا

مزدور گرفتار ہے فاقوں کے جہاں میں

ایسوں نے کبھی صبر کا وہ پھل نہیں دیکھا

واجب تھی مری راہ محبت میں وہ ٹھوکر

میں نے کبھی رستے میں جو سگنل نہیں دیکھا

یار دل رحمانؔ جنوں سے ڈرا ہے بس

اس نے یہاں مجھ سا کوئی پاگل نہیں دیکھا