رہ عرفاں میں اپنے ہوش کو مائل سمجھتے ہیں

Hafeez Fatima Barelvi

رہ عرفاں میں اپنے ہوش کو مائل سمجھتے ہیں

ہوئی جب بے خودی طاری اسے منزل سمجھتے ہیں

وفوق شوق کو ہے تنگ اقصائے دو عالم بھی

فضائے لا مکاں پرواز کے قابل سمجھتے ہیں

بقا ظاہر میں ذرات عدم کا اک ہیولیٰ ہے

حقیقت میں فنا کو زیست کا حاصل سمجھتے

زمانہ کا اثر ہوتا نہیں ہے حال پر اپنے

کہ یکساں حالت ماضی و مستقبل سمجھتے ہیں