عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے

Ghalib Irfan (b. 1938)

عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے

آئنے کے باہر بھی آس پاس ہم ہی تھے

جب شعور انسانی رابطے کا پیاسا تھا

حرف و صوت علم و فن کی اساس ہم ہی تھے

فاصلوں نے لمحوں کو منتشر کیا تو پھر

اعتبار ہستی کی ایک آس ہم ہی تھے

مقتدر محبت کی شکوہ سنج محفل میں

خامشی کو اپنائے پر سپاس ہم ہی تھے

خواب کو حقیقت کا روپ کوئی کیا دیتا

منعکس تصور کا انعکاس ہم ہی تھے